ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا پاور کارپوریشن کر رہا ہے قربانی دینے والے ضلع اتر کنڑا کے ساتھ ناانصافی 

کرناٹکا پاور کارپوریشن کر رہا ہے قربانی دینے والے ضلع اتر کنڑا کے ساتھ ناانصافی 

Mon, 24 Jun 2024 13:29:57    S.O. News Service

کاروار،  24 / جون (ایس او نیوز) اتر کنڑا ضلع میں بجلی تیار کرنے والا کرناٹکا پاور کارپوریشن لمیٹیڈ (کے پی سی ایل)  پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے منافع کی رقم سے ضلع کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کام نہیں کر رہا ہے ۔ اس پس منظر میں اچیوت کمار نامی ایک شخص نے حق اطلاعات قانون کے تحت کارپوریشن سے جو سوال کیا تھا اس کا جواب دیکھنے سے یہ بات درست ثابت ہو رہی ہے ۔ 
    
قانون کے مطابق سالانہ پانچ کروڑ روپے منافع کمانے والی کمپنی کو اپنے خالص منافع (نیٹ پروفٹ) کا کم از کم 2% حصہ سماجی ذمہ داری (کارپوریٹ سوشیل ریسپانسیبلٹی) کے زمرے میں خرچ کرنا ہوتا ہے ۔ یہ قانون کے پی سی ایل جیسی سرکاری کمپنی پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ 
    
حق اطلاعات قانون کے تحت ملنے والے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے مقص سے کالی اور شراوتی ندیوں کا پانی استعمال کرنے کے ضلع کے مختلف مقامات پر 6 ڈیم  اور 5 پاور پلانٹ  تعمیر کیے گئے ہیں ۔  کے پی سی ایل کمپنی اس کے ذریعے بجلی پیدا کرتی ہے اور اس بجلی کی فروخت سے سالانہ 6  تا 9 ہزار کروڑ روپے کماتی ہے ۔ اس میں کمپنی کو 300 تا 500 کروڑ کا منافع ہوتا ہے ۔ اس میں سماجی ذمہ داری کے زمرے میں کمپنی کی طرف سے ریاست کے مختلف علاقوں میں سالانہ 6 تا 15 کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں ۔ 
    
تعجب خیز بات یہ ہے کہ ضلع کی زمین اور پانی استعمال کرکے منافع کمانے والی کے پی سی ایل کمپنی ضلع اتر کنڑا کے عوام کے لئے سماجی ذمہ داری کے زمرے میں کوئی رقم خرچ نہیں کرتی جو ضلع عوام کو سراسر دھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔
    
بجلی کارپوریشن کی سالانہ رپورٹ برائے 2022-23 کے مطابق کمپنی نے 9,326 کروڑ روپے کمائے ۔ اس میں سے خرچ اور ٹیکس وغیرہ نکل جانے کے بعد کمپنی کا خالص منافع 191 کروڑ روپے رہا ۔ اس میں سے کمپنی نے 6.04 کروڑ روپے سی ایس آر (سماجی ذمہ داری) فنڈ میں استعمال کیے ۔ لیکن ضلع اتر کنڑا کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا ۔ یعنی جس مقام سے کمائی ہو رہی ہے اس مقام کے عوام اس کے فائدے سے محروم رہتے ہیں ۔ جب کہ پانی سے بجلی تیار کرنے کے منصوبے کی وجہ سے ضلع کے عوام بڑا خسارہ برداشت کیا ہے ۔ ندیوں پر بند باندھنے کے لئے گاوں گاوں کے خالی کروائے گئے اور سیکڑوں کو خاندانوں کو بے گھری کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان منصوبوں سے اپنے گھر اور زمینیں گنوانے والے لوگ اب انکولہ، جوئیڈا جیسے الگ الگ مقامات پر بازآباد کاری کے تحت بنائے گئے مکانات میں رہنے پر مجبور ہوگئے ۔ نئے سرے سے آباد کیے گئے ان دیہاتوں میں بسنے والوں کا کہنا ہے کہ وہاں اب بھی بنیادی سہولتوں کی کمی کے علاوہ انہوں نے بہت ساری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ ریاست کی ترقی کے لئے ایثار اور قربانی دینے والے ضلع کے عوام کی کے پی سی ایل کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے اور اسے ضلع کے عوام کے لئے اپنی سماجی ذمہ داری کا ذرا بھی احساس نہیں ہے ۔ 


Share: